109

شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین گذشتہ روز ایک مرتبہ پھر سے آمنے سامنے آ گئے تھے

شاہ محمود قریشی کو اسد عمر اور نعیم الحق کی حمایت حاصل، وزیراعظم آفس کا فواد چودھری پر اظہار برہمی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 اپریل 2019ء) : وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین آپسی اختلافات کی وجہ سے گذشتہ روز ایک مرتبہ پھر سے آمنے سامنے آ گئے تھے۔ جس کے بعد کئی وزرا نے جہانگیر ترین کے حق میں بیانات دئے۔ اس معاملے پر ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر اسد عمر اور وزیراعظم عمران خان کے مشیر نعیم الحق پارٹی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے حق میں ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے جہانگیر ترین پر تنقید کی تو سرکاری ٹی وی نے شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس بھی کاٹ دی تھی۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مابین بیان بازی کا حصہ بننے پر وزیراعظم آفس نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ پارٹی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مابین بیان بازی اور اس کے نتیجے میں وزرا کا آپس میں ٹکراؤ وزیراعظم عمران خان کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین میں اختلافات کی خبریں تو عام انتخابات 2018ء میں بھی سامنے آئی تھیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی جہانگیر ترین کو ہمیشہ لاہور میں بیٹھ کر ہی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ دونوں کے مابین اختلافات پر پارٹی بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ ایک حصہ شاہ محمود قریشی کے موقف کی حمایت کرتا ہے تو دوسرا جہانگیر ترین کے حق میں ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ جہانگیر ترین کی پاکستان تحریک انصاف کے لہے بہت سی خدمات ہیں۔ جہانگیر ترین سرکاری میٹنگز میں بیٹھتے ہیں تو مخالفین کو موقع ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین میں بہت صلاحیت ہے لیکن انہیں پارٹی کے اجلاسوں کی صدارت نہیں کرنی چاہئیے۔
یہ طرز عمل چیف جسٹس کے فیصلے کی تضحیک ہے۔ جب آپ سرکاری اجلاسوں میں بیٹھتے ہیں تو عدالتی فیصلے کی توہین ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین ضرور خدمت کریں، کیا خدمت صرف میٹنگ کی صدارت سے ہو سکتی ہے؟خدمت رولز اور بزنس کی خلاف ورزی سے نہیں ہوتی، خدمت سے انہیں کسی نے نہیں روکا۔ وہ سرکاری اجلاسوں میں بیٹھتے ہیں تو مریم اورنگزیب کو بھی بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔
جہانگیر ترین کو چاہئیے کہ وہ اپنی خدمت کا طریقہ کار تبدیل کریں۔ آپ ہمیں تجاویز دیں، مشورے دیں ہم ان کا احترام کریں گے۔ ترین صاحب ایسا کچھ نہ کریں جس سے پارٹی پر اُنگلیاں اُٹھیں۔ جس کے جواب میں جہانگیر ترین نے ٹویٹر کا استعمال کیا اور کہا کہ میں صرف ایک شخص کو لیڈر مانتا ہوں اور اس کا نام عمران خان ہے۔جہانگیر ترین نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ انہیں دوسروں کی حیرت انگیز وجوہات کی پراوہ نہیں۔
میری زندگی میں صرف ایک ایسا شخص ہیں جنہیں میں اپنا لیڈر مانتا ہوں اور انہی کو جوابدہ ہوں، وہ لیڈر عمران خان ہے۔جہانگیر ترین نے مزید کہا کہ میں عمران خان کے اچھے اور برے دور میں ان کے ساتھ کھڑا رہا اور اپنی آخری سانسوں تک ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں