114

نواز شریف کا دور ختم۔۔۔مسلم لیگ ن پر اب کس کا راج ہوگا اہم خبر نے ن لیگی کارکنان کو سرپرائز دے دیا

لاہور: شریف برادران، حمزہ شہباز شریف اور مریم نواز کے درمیان ایک میٹنگ ہوئی جس میں آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل طے کیا گیا اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس تین گھنٹے تک جاری رہا۔اس اجلاس میں نواز شریف،شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز موجود تھے۔لیکن حسن نواز، حسین نواز اور سلمان شہباز باہر ہونے کی وجہ سے موجود نہیں تھے۔
میں نے جب اس اجلاس کا جائرہ لیا تو اس میں چند بہت عجیب چیزیں سامنے آئی ہیں جس میں سب سے اہم بات یہ کہ اب مسلم لیگ ن مسلم لیگ شہباز بن گئی ہے۔نواز شریف کی پالیسی کی ایک ڈائرایکشن تھی، مجھے کیوں نکالا سے خلائی مخلوق تک اور ووٹ کو عزت دو

لیکن اس تمام صورتحال میں شہباز شریف کا ایک ہی بیانیہ تھا کہ ہمیں مزاحمتی سیاست نہیں اپنانی بلکہ کارگردگی کا مظاہرہ کر کے دکھانا ہے،الیکشن کے بعد نواز شریف کا یہ کہنا تھا کہ ن لیگ کو جتنے بھی ووٹ ملے وہ میری مزاحمتی سیاست کی وجئہ سے ملے۔

جب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ میری پنجاب میں اچھی کارگردگی کی وجہ سے ملے اگر ووٹ مزاحمتی سیاست کی وجہ سے ملتے تو پھر پورے پاکستان سے ن لیگ کو ووٹ ملتے۔اس لیے مجھے اب لگتا ہے کہ ن لیگ میں شہباز شریف کا بیانیہ چلے گا۔ن لیگ اب مسلم لیگ شہباز شریف کے طور پر چلے گی جب کہ نوازفیملی نے بھی شہباز شریف کا بیانیہ تسلیم کر لیا ہے۔محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے مشکل وقت میں شہباز ڈاکٹرئن کو تسلیم کر لیا ہے اور شریف خاندان نے یہ حکمت عملی اپنائی ہے کہ اب پارٹی میں مزاحمتی رویہ نہیں اپنایا جائے گا،واضح رہے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت نے طبی بنیادوں پر چھ ہفتوں کے لیے رہا کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں